Urdu Poetry لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیںسبھی دکھائیں
ماں جی اب  بولتی نہیں ہے، فاروق شہزاد ملکانی
اپنے بچوں کو ہیں کیوں بھوکا سلاتے لوگ، فاروق شہزاد ملکانی
ایک وقت تھا جب ضمیر و جان زندہ ہوا کرتے تھے
 زندگی میری آدم بیزار سی نظر آتی ہے
وہ کہتا ہے مجھے تمہاری آنکھیں اذیت شناس لگتی ہیں
ہاتھ چھڑانے کی دوڑ میں اپنوں نے کمال کر ڈالا
کچھ اشعار ماں جی کے نام، ماں کیلئے اردو شاعری
غربت بھی رقص کرتی ہے، شرافت بھی ناچتی ہے۔ از، فاروق شہزاد ملکانی
مدینے کی گلیوں میں محمد کا یہ دیوانہ ہوتا نعت شریف، فاروق شہزاد ملکانی