ایک وقت تھا جب ضمیر و جان زندہ ہوا کرتے تھے
کلام:
فاروق شہزاد ملکانی
ایک وقت تھا جب ضمیر و جان زندہ ہوا کرتے تھے
مر جاتا تھا آدمی مگر
انسان زندہ ہوا کرتے تھے
بھوکے نہیں سوتے تھے
کبھی گلی کے کتے بھی
انسانوں کے بیچ میں سب
حیوان زندہ ہوا کرتے تھے
یہ بھی پڑھیں:
زندگی میری آدم بیزار
سی نظر آتی ہے
ہاتھ چھڑانے کی دوڑ میں
اپنوں نے کمال کر ڈالا


0 تبصرے