ماں جی اب بولتی نہیں ہے، فاروق شہزاد ملکانی
ملاقات تو ہوئی مگر
ادھوری تھی
میں ہی بولتا رہا ،
وہ بولی نہیں
میں لفظوں کو تولتا رہا
میں ہی فقط بولتا
رہا
لفظوں کے بیچ وقفوں میں
میرا مدعا جان لیتی تھیں
میری ہر فرمائش مان لیتی تھیں
مجھے معلوم تھا وہ لب کھولیں گی نہیں
میں جتنا بھی بولوں وہ بولیں گی نہیں
میں لحد پہ ان کی بڑی دیر تک رہا
دل کے پھپھولے
پھوڑتا رہا
وہ خاموش ہی رہیں کچھ بولی نہیں
لگتا ہے جیسے میری طرح انہیں بھی چپ لگ گئی ہے
میری آہیں سن کر وہ بھی
خاموش ہو گئی ہیں
وقت تھا جب میری خاموش زبان بھی انہیں چیخ لگتی تھی
میرے دل کی آہ پر بھی
وہ تڑپ اٹھتی تھیں
بن کہے میری فریاد سن لیتی تھیں
ماں کے روپ میں وہ خدا لگتی تھیں
تمام عورتوں سے وہ جدا لگتی تھیں
پھر ایسا ہوا کہ وہ مجھ سے جدا ہو گئیں
میرے سپنے توڑ کر الوداع ہو گئیں
روؤں کہ چیخوں مجھے
کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا
حسب عادت راضی بہ رضا
میں خاموش ہی رہا
معلوم تھا مجھے میرے پیروں کے نیچے سے
زمیں کھسک گئی ہے ، ہاتھ ہٹ گیا ہے پیچھے سے
ماں جی میری بے زبانی کو آواز دینے والا کوئی نہیں
میں رو رہا ہوں کہ چپ ہوں یہ سمجھنے والا کوئی نہیں
ماں جی اب تو میرا
دکھ بس یہی ہے
میں بولتا ہوں مگر تو
بولتی نہیں ہے ماں
شہزاد اب بھی چپ ہے،
کیا یہ جانتی نہیں ماں


0 تبصرے