وہ کہتا ہے مجھے تمہاری آنکھیں اذیت شناس لگتی ہیں

وہ کہتا ہے مجھے تمہاری آنکھیں اذیت شناس لگتی ہیں

 

وہ کہتا ہے مجھے تمہاری آنکھیں اذیت شناس لگتی ہیں 

کلام: فاروق شہزاد ملکانی

 

آج کی تازہ ترین غزل حاضر خدمت ہے ۔ فاروق شہزاد ملکانی نئے اسلوب کے شاعر ہیں ۔ ان کی غزل میں نئے پن کا احساس بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کی شاعری پڑھ کے ایک عجیب حیرت ہوتی ہے کہ ہم کچھ نیا تجربہ کر رہے ہیں۔

 

وہ  کہتا  ہے  مجھے  تمہاری  آنکھیں  اذیت  شناس  لگتی  ہیں 

بہت  دور کہیں کھوئی  ہیں  یہ  جو  یہاں  آس پاس لگتی  ہیں

 

مقدر  بنانے  والے نے  کچھ  سوچ  سمجھ  کر  ہی  بنایا ہو گا

اس نے وہاں بسایا ہوگا جن کی طبیعتیں جہاں راس لگتی ہیں

وہ کہتا ہے مجھے تمہاری آنکھیں اذیت شناس لگتی ہیں

یہ بھی پڑھیں:

ہاتھ چھڑانے کی دوڑ میں اپنوں نے کمال کر ڈالا

 

کچھ اشعار ماں جی کے نام، ماں کیلئے اردو شاعری


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے