اپنے بچوں کو ہیں کیوں بھوکا سلاتے لوگ، فاروق شہزاد ملکانی

اپنے بچوں کو ہیں کیوں بھوکا سلاتے لوگ، فاروق شہزاد ملکانی

 

اپنے بچوں کو ہیں کیوں بھوکا سلاتے لوگ، فاروق شہزاد ملکانی

 

اپنے بچوں کو ہیں کیوں بھوکا سلاتے لوگ

کاش یہ اذیت بھی جان پاتے لوگ

دولت کو چھپا چھپا کے کیوں رکھتے ہیں

اپنی قبروں میں تو نہیں لے جا پاتے لوگ

خالی ہاتھ جا رہا تھا وہ چار کاندھوں پر

جس کی دولت کا شمار نہیں کر پاتے لوگ

جنازوں میں دوڑ دوڑ کے شامل ہونے والو سنو

کاش تم جان پاتے کہ کیوں ہیں مر جاتے لوگ

بھوک سے ہی مر گیا تھا وہ شخص

جس کے تیسرے پہ ہیں دیگیں چڑھاتے لوگ

بچوں کی بھوک دیکھ کر وہ جیتے جی مر گیا

جسے مرا دیکھ کر بھی نہیں جاگ پاتے لوگ

مانگنے کی اذیت کو کاش کوئی جان پاتا

مر ہی تو جاتے ہیں یہ کسی سے مانگتے لوگ

تیری دولت تجھے مبارک ہو شہزاد

نہیں کام کی گر کسی کے کام نہیں آتے لوگ

 

کلام: فاروق شہزاد ملکانی

 

یہ بھی پڑھیں:

غربت بھی رقص کرتی ہے، شرافت بھی ناچتی ہے۔ از، فاروق شہزاد ملکانی

سنو آئے وقت کے یزیدو، بتاؤ کہاں ہے تمہارا یزید کلام: فاروق شہزاد ملکانی


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے