کچھ اشعار ماں جی کے نام، ماں کیلئے اردو شاعری
کلام : فاروق شہزاد ملکانی
ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
تو سب کہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اس بات پر سب یقین بھی رکھتے ہیں۔ ماں ہمیشہ سے شفقت ، پیارو محبت کا نہ صرف
استعارہ رہی ہیں بلکہ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو وہ پیار و محبت کے ساتھ ایثار و
قربانی کا دوسرا نام بھی ہوتی ہیں۔ اولاد خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی اس کیلئے ماں کی
شخصیت ہمیشہ بہت اہمیت کی حامل رہی ہے۔ میری ماں جسے میں پیار سے ہمیشہ ماں جی ہی
کہتا آیا ہوں اب وہ ہم میں نہیں ہیں۔ لیکن یہ ہم میں نہیں ہے کا دکھ صرف وہی لوگ
جان سکتے ہیں جو اس کرب سے گزر رہے ہیں۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انسان مرنے والوں کے ساتھ مر نہیں
جاتا، لیکن میرا کہنا ہے کہ دوسروں کا تو مجھے معلوم نہیں مگر ماں اگر چھوڑ کے چلی
جائے تو انسان ان کی یاد میں پل پل مرتا ہے۔
اگر ماں کے ساتھ مر نہیں جاتا تو یہ کہنا بجا ہو گا کہ وہ جیتا بھی نہیں
ہے۔
ماں کیلئے تمام شاعروں نے شاعری کی ہے کیونکہ ماں وہ محبوبہ
ہوتی ہے جو بے وفا نہیں ہوتی مگر پھر اس کیلئے غمگین شاعری لکھی جاتی ہے۔ ماں کو
یاد کر کے ان کی جدائی ہر لمحہ تڑپاتی ہے۔
ذیل میں دو غزلیں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں جو میں نے اپنی ماں جی
کیلئے لکھی ہیں۔
اس میں سے ایک غزل کا مطلع یہ ہے۔۔۔
ماں تھیں تو روشنی تھی
مرے ہر خیال میں
اب تیرگی سی چھا گئی ہے ہر ماہ و سال میں
جبکہ دوسری غزل کا مطلع پیش خدمت ہے۔۔
دل میں ہر وقت تری یاد
کا موسم ٹھہرا
تیری جدائی میں یہ دل
ہے کہ ہر دم ٹھہرا
یہ بھی پڑھیں:
غربت بھی رقص کرتی ہے، شرافت بھی ناچتی ہے۔ از، فاروق شہزاد
ملکانی
مدینے کی گلیوں میں محمد کا یہ دیوانہ ہوتا نعت شریف، فاروق
شہزاد ملکانی




0 تبصرے