غربت بھی رقص کرتی ہے، شرافت بھی ناچتی ہے۔
کلام: فاروق شہزاد ملکانی
اس پوسٹ میں معروف صحافی،بلاگر، ادیب و شاعر فاروق شہزاد ملکانی کی دو غزلیں
شامل کی جا رہی ہیں۔ یہ غزلیں شاعری شائقین میں بہت پسند کی گئی ہیں۔ جس کے بعد
اردو ورلڈ نے اپنے قارئین کیلئے پیش کی ہیں۔ امید ہے کہ ہمارے قارئین کو بھی یہ
دونوں غزلیں بہت پسند آئیں گی۔ اپنا فیڈ بیک بھی ضرور دیجئے گا اور دوستوں کے ساتھ
شیئر بھی کریں تا کہ یہ کاوش زیادہ سے زیادہ
قارئین تک پہنچ سکے۔
نمونہء کلام کیلئے پیش خدمت ہے۔۔۔
انصاف بیچا گیا یہاں ایمان بیچا گیا
خون بیچا گیا غریب کا ارمان بیچا گیا
اسی طرح دوسری غزل کا مطلع ہے کہ
غربت بھی رقص کرتی ہے، شرافت بھی ناچتی ہے
بے فیض ہو کے رحمت بھی لعنت بھی ناچتی ہے
یہ بھی پڑھیں:
سنو آئے وقت کے یزیدو، بتاؤ کہاں ہے تمہارا یزید کلام: فاروق
شہزاد ملکانی
لکھی سچائی تو کانٹوں پہ چلنا پڑا مجھے۔۔
۔ اردو غزل: فاروق شہزاد ملکانی




0 تبصرے