ہاتھ چھڑانے کی دوڑ میں اپنوں نے کمال کر ڈالا

ہاتھ چھڑانے کی دوڑ میں اپنوں نے کمال کر ڈالا

 

ہاتھ چھڑانے کی دوڑ میں اپنوں نے کمال کر ڈالا

کلام : فاروق شہزاد ملکانی

 

آج میں اپنے قارئین کی نذر ایک نئی غزل کرنے جا رہاہوں۔ یہ میرا تازہ ترین کلام ہے ۔ میری یہ غزل دنیا اور اپنوں کی بے ثباتی کو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح یہ دنیا اخلاقی اور سماجی طور پر قلابازیاں کھا رہی ہے۔ جبکہ اقدار کی ڈوری سے بندھے کچھ لوگ کس طرح سے مشکلات میں جکڑے ریزہ ریزہ ہوئے جا رہے ہیں۔

 

تازہ اردو غزل ملاحظہ فرمائیں۔۔۔

 

مریض عشق یوں لگتا ہے جیسے سنبھلتا جا رہا ہے

بکھرا اس قدر کہ سب ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے

 

حرص و ہوس کی دنیا میں  ایسی آندھی چلی کہ بس

زر  کی  دوڑ  میں  جیسے ہر  رشتہ بکھرتا جا رہا ہے

 

فکر فاقہ  رہا  ہے  نہ  ہی  کار زیاں  کا  دکھ

اتنا ٹوٹا ہوں کہ اندر اندر کچھ مرتا جا رہا ہے

 

ضبط کیسے کروں, ہر جانب سے حملہ آور ہے یہ سماج

ٹوٹ گئیں آنکھ کی فصیلیں،طوفان بڑھتا جا رہا ہے

 

ہاتھ چھڑانے کی دوڑ میں اپنوں نے کمال کر ڈالا

آنگن خالی ہو چکا، افق ان سے بھرتا جا رہا ہے

 

چلا جاؤں گا تمام مسرتیں تمہارے نام کر کے

تیرے شہر میں میرا رہنا عذاب بنتا جا رہا ہے

 

خودداری  جسے  ساری  عمر  سمیٹنے  میں گزری ہے

ایسے بکھری ہے شہزاد کہ اپنا آپ  بکھرتا جا رہا ہے

 

از: فاروق شہزاد ملکانی

 

ہاتھ چھڑانے کی دوڑ میں اپنوں نے کمال کر ڈالا

یہ بھی پڑھیں:

 

ماں تھیں تو روشنی تھی مرے ہر خیال میں

 

غربت بھی رقص کرتی ہے، شرافت بھی ناچتی ہے

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے