آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی شورش: عوامی حقوق کی تحریک یا کسی بڑی سازش کا حصہ؟ . فاروق شہزاد ملکانی

آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی شورش, عوامی حقوق کی تحریک یا کسی بڑی سازش کا حصہ . فاروق شہزاد ملکانی

آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی شورش: عوامی حقوق کی تحریک یا کسی بڑی سازش کا حصہ؟

تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

 آزاد کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف عوامی احتجاجی تحریکوں نے جنم لیا ہے، جن میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کردار خاص طور پر نمایاں رہا ہے۔  یہ عوامی ایکشن کمیٹی بظاہر مہنگی بجلی، ٹیکسوں کے نفاذ، آٹے کی قیمتوں اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف میدان میں آئی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سرگرمیوں اور اس کے کچھ رہنماؤں کے پاکستان اور اداروں کے خلاف بیانات نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

 

ابتدائی طور پر عوامی حلقوں نے ان تحریکوں کو اپنے معاشی حقوق کے حصول کی کوشش قرار دیا، کیونکہ مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے مالی بوجھ نے عام شہری کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔  لیکن جب بعض رہنماؤں کی تقاریر میں پاکستان اور پاکستانی ریاستی اداروں کے خلاف سخت اور غیر معمولی زبان استعمال ہونے لگی تو مبصرین نے اس کے پس منظر پر غور کرنا شروع کیا۔

 

 بعض سیاسی اور سکیورٹی ماہرین کا مؤقف ہے کہ آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے جہاں پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینا بھارت کے طویل المدتی مقاصد میں شامل رہا ہے۔ خاص طور پر گذشتہ سال مئی میں اپریشن بنیان المرصوص میں عبرتناک شکست کے بعد ان کے مطابق بھارت بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، اس لیے ایسی کسی بھی تحریک میں ریاست مخالف بیانیے کا شامل ہونا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔  یہ حلقے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان سرگرمیوں کے مالی وسائل، بیرونی روابط اور سوشل میڈیا مہمات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

 

دوسری جانب بعض تجزیہ نگار اس بات پر بھی  زور دیتے ہیں کہ ہر احتجاج یا اختلافی آواز کو بیرونی سازش قرار دینا بھی مناسب نہیں۔  ان کے نزدیک اگر عوام کو معاشی مشکلات کا سامنا ہو تو احتجاج ایک فطری ردعمل ہوتا ہے۔  تاہم وہ بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ عوامی مطالبات اور ریاست مخالف بیانیے کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے۔  اگر کوئی تحریک عوامی حقوق کے نام پر قومی اداروں کو نشانہ بنانا شروع کر دے تو اس سے اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

 

 کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی ایک سیاسی جماعت اور اس سے وابستہ بعض عناصر خاص طور پر ان کا سوشل میڈیا اور بیرون ملک بیٹھے ان کے یوٹیوبر اور رہنما  صورتحال کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔  ان کے مطابق وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں سے سیاسی اختلافات رکھنے والے بعض افراد آزاد کشمیر کے حالات کو اپنی سیاسی لڑائی کا میدان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔  سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہمات میں بھی بعض اوقات ایسے بیانیے دیکھنے میں آتے ہیں جو قومی یکجہتی کے بجائے مزید تقسیم پیدا کرتے ہیں۔

 

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جدید دور میں اطلاعاتی جنگ (Information Warfare)  روایتی جنگ سے زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے۔  سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عوامی جذبات کو متاثر کرنا، ریاستی اداروں پر عدم اعتماد پیدا کرنا اور احتجاجی تحریکوں کو مخصوص سمت دینا آج کی دنیا میں ایک مؤثر حکمت عملی ہے۔  اسی لیے آزاد کشمیر جیسے حساس خطے میں ہونے والی ہر بڑی تحریک کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

 

 آزاد کشمیر کے عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ کسی بھی عوامی تحریک کی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب وہ عوامی مسائل کے حل تک محدود رہے اور اسے کسی بیرونی ایجنڈے، سیاسی انتقام یا ریاست مخالف بیانیے کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوامی شکایات کا بروقت ازالہ کرے، سیاسی جماعتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ریاستی ادارے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حقائق کو قوم کے سامنے لائیں۔  صرف اسی صورت میں عوامی حقوق اور قومی مفادات کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکتا ہے اور دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام کیا جا سکتا ہے۔

 

اب آتے ہیں اس جانب کہ کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی اس شورش کے پیچھے واقعی بھارت کا ہاتھ ہے ؟  تو اس میرا کہنا یہ ہے کہ اس شورش کے پیچھے بھارت سمیت دیگر عالمی قوتوں کا ہاتھ بھی موجود ہے جو اب ننگا ہو کر واضح نظر بھی آ رہا ہے۔

 

ایسا کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔  جو درج ذیل ہیں۔

 

ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے بیانات: اگر آپ ایکشن کمیٹی کے بیانات کا جائزہ لیں تو آپ بھی یقینی طور پر سمجھ جائیں گے کہ صرف عوامی  حقوق کے حصول کیلئے کوئی بھی شہری اس طرح کی زبان استعمال استعمال نہیں کرتا ، ملکی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کو یوں متنازعہ نہیں بناتا۔ کیوں کہ اس کا کام حقوق حاصل کرنا ہوتا ہے ریاست کو دنیا میں رسوا کرنا نہیں ہوتا۔ لیکن ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے بیانات سے یہ  بات عیاں ہوتی ہے کہ ان کا مقصد حقوق کا حصول ہے ہی نہیں وہ عوامی حقوق کا استعمال کر کے عوام کو اپنے مقاصد کیلئے چارے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف پاکستان کو دنیا کی نظروں سے گرانا ہے  اور مسئلہ ء کشمیر کے بیانیے کو موڑ دینا ہے۔ ایسا کون چاہتا ہے کہ پاکستان کے دنیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور نیک نامی کو دھچکا لگے تو تمام لوگوں کا جو پہلا جواب ہو گا وہ انڈیا ہی ہو گا۔ کیونکہ انڈیا اپنا سندور لٹنے کے بعد جو زخم چاٹ رہا ہے وہ ان پہ بھایا رکھنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ اس نے بلوچستان اور کے پی کے کا محاذ گرم کرنے کے بعد ایک اور محاذ کھول دیا ہے۔ پیسہ پھینک تماشا دیکھ  کے مصداق وہ پیسہ پھینک کر پاکستانیوں کو اندرونی محاذ پر مصروف کر رہا ہے۔ ویسے روایتی جنگ کی نسبت اس طرح جنگ زیادہ آسان اور سستی ہوتی ہے۔ ایک میزائل کروڑوں روپے کا بنتا ہے ۔ جبکہ وہ صرف ایک کروڑ روپیہ استعمال کر کے کئی مادر فروش خرید لیتا ہے ان کے ذریعے اپنے مقاصد کا حصول بھی ممکن بنا لیتا ہے اور پاکستان کے خلاف بیانیہ بھی بنوا لیتا ہے۔  یوں اس کے ایک میزائل کی لاگت اس کیلئے سینکڑوں میزائلوں کا ثمر لا دیتی ہے۔

 

انڈیا کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی ایسا ملک ہے جو حالیہ جنگ میں پاکستان کے کردار اور فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کے اصولی مؤقف کے باعث اپنے زخم چاٹ رہا ہے وہ بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے انڈیا کے شانہ بشانہ ہے۔  پاکستان واحد اسلامی ریاست ہے جو ایٹمی قوت ہے  اور اسرائیل کے عزائم کی راہ میں پہاڑ بن کر حائل ہے۔ مسئلہ فلسطین کو سامنے رکھیں اور اس کا تجزیہ کریں تو راز کھلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ پاکستان اگر فلسطین کے مسئلے پر اپنا اصولی مؤقف نہ اپناتا  تو آج اسرائیل آدھے عرب ممالک پر قابض ہوتا اور مزید پر قابض ہونے کیلئے پر تول رہا ہوتا۔

 

ان دو واضح دشمن کرداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے کچھ نادان دوست نما دشمن عناصر بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں۔  یہ بحث کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھتے ہیں کہ وہ ایسا دانستہ طور پر ایسا کرتے ہیں یا نادانستہ طور یہ حرکت ان سے سرزد ہو رہی ہے ۔میں صرف اتنا کہوں گا کہ ان کے اس عمل سے پاکستان اور اہل پاکستان کا بہت نقصان ہو رہا ہے اور اگر میں یہ کہوں کہ ان کا  اپنا بھی بہت نقصان ہو رہا ہے۔ ان کا یہ عمل اس لکڑ ہارے کی مانند ہے جو درخت کی جس شاخ پر بیٹھا ہوتا ہے اسی کو کاٹ رہا ہوتا ہے۔  وقتی طور پر شاید انہیں ڈالر بھی مل رہے ہوں گے ان کے بچے اور وہ عیاشیاں بھی کر رہے ہوں گے۔ مگر یاد رہے جب تاریخ دان تاریخ قلم بند کرنے کیلئے بیٹھے گا تو انہیں مادر فروش  ہی لکھے گا۔ ایک امریکی صدر نے کہا تھا کہ پاکستانی پیسے کیلئے اپنی ماں بھی فروخت کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن ذہن میں رہے کہ شاید ان کا واسطہ مادر فروشوں سے ہی پڑا ہو گا۔ پاکستان کا ہر شہری اپنے ملک ، اپنی مٹی اور اپنی ماں سے شدید محبت کرتا ہے کہ وہ ان کیلئے کٹ مرنے کیلئے بھی تیار ہوتا ہے۔ سوائے چند ڈالری ہی اپنے مقاصد کیلئے پاکستان جیسے ملک کو برا کہتے ہیں اور اس سے غداری کرتے ہیں اور ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔

 

آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ ایکشن کمیٹی کے مسئلہ سے دانش مندی کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے۔ جو ارض پاک کے خلاف ، ہمارے شہداء اور ہمارے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں ان سے کسی قسم کی رعایت محب وطن شہریوں کے ساتھ ظلم ہو گا اور جو شرکاء صرف حقوق کا جھانسہ لے کر احتجاج میں شریک ہیں اور پر امن انہیں ان مظاہروں سے ریسکیو کیا جائے اور بحفاظت ان کے گھروں کو پہنچایا جائے۔ کشمیری ہمارے بھائی ہیں۔ ہم نے ان کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں۔ ہم ان ہی کیلئے بھارت کے ساتھ 4 جنگیں لڑی ہیں۔ ہم اگر دفاع پر اتنا بہت خرچ کرتے ہیں تو یہ بھی مسئلہ کشمیر ہی کے باعث ہی ہے۔ عام کشمیری یہ باتیں جانتا ہے اس لئے وہ ہمیشہ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ بلند بھی کرتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں:

خواجہ آصف کا بھیانک سچ اور میرا کلاس فیلو میٹر ریڈر... فاروق شہزاد ملکانی

تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے۔۔۔  تحریر: فاروق شہزاد ملکانی 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے