سہیل آفریدی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ اور تفکر کے آثار، صرف جانے کا خوف یا کچھ اور بھی۔۔۔

سہیل آفریدی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ اور تفکر کے آثار، صرف جانے کا خوف یا کچھ اور بھی۔۔۔

 

سہیل آفریدی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ اور تفکر کے آثار، صرف جانے کا خوف یا کچھ اور بھی۔۔۔

تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

سہیل آفریدی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ اور تفکر کے آثار نمایاں تھے  اور وہ اسی جھنجھلاہٹ اور پریشانی کے عالم میں باقاعدہ سخت زبان (اگر اسے گالیاں کہا جائے تو غلط نہ  ہو گا) استعمال کر کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا اعلان کر رہے تھے۔ حالانکہ وہ کل سارا دن اپنے آپ کو اچھا بچہ بنا کے پیش کرتے رہے ۔  پھر ایسا کیا ہوا کہ کل رات کو ہی  پریس کانفرنس میں انہیں سخت زبان کا استعمال کرنا پڑا  اور لانگ مارچ کا اعلان تو کیا مگر انہوں نے پہلے مرحلے میں صوابی تک محدود کر دیا اور کہا کہ صوابی پہنچ کر ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا کیا جائے۔

 

سہیل آفریدی کی اس پریس کانفرنس سے پہلے پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا جس میں اس لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا۔  جس کا اعلان اس پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خود کیا۔  اس پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی کے خط کے بارے میں کہا کہ شوکت یوسفزئی کا خط مجھے تو آیا نہیں مجھے آئے گا تو میں پڑھوں گا اور ڈسٹ بن میں ڈال دوں گا۔ یہ  ایک طرح سے اپنے سینئر ساتھی کی توہین ہے۔ بے شک ایک دوسرے کے ساتھ بے شمار اختلافات ہوں مگر باہمی احترام کا اتنا تو تقاضا بنتا ہے کہ وہ کچھ بہتر الفاظ کا استعمال کر کے اس سوال سے جان چھڑوا سکتے تھے مگر انہوں نے اپنی اندرونی بے چینی کا اظہار کرنا مناسب سمجھا ۔

 

آپ کے ذہنوں میں شاید یہ سوال  اٹھنا شروع ہو چکا ہو گا کہ آخر سہیل آفریدی اتنے بے چین اور پریشان کیوں ہیں کہ وہ اپنی پریشانی کو اشتہار بننے سے بھی روک نہیں پا رہے ۔  اس کا اگر سادہ سا جواب دوں تو وہ یہ ہے کہ انہیں بھی یقین ہو چکا ہے کہ ان کی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ فائلیں بن چکی ہیں۔ فائلوں میں شامل فرنٹ مینوں کے نام باہر آنا بھی شروع ہو چکے ہیں۔ ظاہر ہے ایک تو اقتدار ہاتھ سے چلا جائے اوپر سے اس دوران انجام دیئے گئے کارنامے بھی زبان زدعام ہونا شروع ہو جائیں تو پھر پریشانی ہوتی بھی ہے ۔

 

پاکستانی صحافت کے بڑے بڑے نام سرعام اب یہ باتیں کرنے لگے ہیں کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ بچنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ وزارت اعلیٰ جانے کی وجہ  بھی یہ لانگ مارچ نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے لانگ مارچ ویسے بھی ٹھس ہو چکا ہے اور ریاست پاکستان یہ عہد کر چکی ہے لشکر کشی کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے دفن کیا جا چکا ہے اگر کوئی اس کی کوشش کرے گا تو اس سےسختی سے نمٹا جائے گا اور 9 مئی کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جائے گی خواہ مستقبل میں ن لیگ ہی کو کیوں نہ لانگ مارچ کرنا پڑے اسے بھی یہ اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریاست نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی کے ثمرات عام عوام تک ضرور پہنچائے جائیں گے  کیونکہ  عام عوام نے ملک و قوم کی خاطر بہت قربانیاں دے لی ہیں اب ان کا حق بنتا ہے ان کو ریلیف دیاجائے جو ہر صورت میں دیا جائے گا۔  

 

سہیل آفریدی کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پارٹی شدید تقسیم اور اضطراب میں ہے۔ پارٹی رہنما کسی طور آفریدی کا ساتھ  دینے کو تیار نہیں بہت سے رہنما بیرون ملک یا انڈر گراؤنڈ جا چکے ہیں۔ پارٹی کو بچانے کیلئے سینئر رہنما سہیل آفریدی کی قربانی دینے کیلئے تیار ہو چکے ہیں بلکہ خود سے ہی نئے وزیراعلیٰ کے ناموں پر غور بھی کر رہے ہیں۔ ان ناموں میں فضل شکور، شکیل خان، سجاد بارکوال شامل ہیں۔ جبکہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی لابنگ کر رہے ہیں کہ انہیں دوبارہ موقع دیا جائے بصورت دیگر سجاد بارکوال بھی انہی کے گروپ کے رکن ہیں جن کیلئے لابنگ عروج پر ہے۔ گذشتہ روز ایک نام اور بھی سامنے آیا تھا  عاقب اللہ خان کو پارٹی نیا وزیراعلیٰ بنانا چاہتی ہے۔

 

یہ تو پارٹی کی کوشش ہے کہ حکومت بچ جائے چاہے وزیراعلیٰ اور وزراء ہی کیوں تبدیل کرنا پڑ جائیں۔ جبکہ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس بار پوری حکومت جائے گی ، گورنر راج یا ایمرجنسی میں سے ایک کا انتخاب کیا جائے گا۔ لیکن زیادہ تر تجزیہ کار ایمرجنسی کو پہلی چوائس قرار دے رہے ہیں۔ کسی ایک شخصیت کو وفاق کا نمائندہ تعینات کیا جائے گا۔ اور وہ ایسا نمائندہ ہو گا جو دہشتگردی کے عفریت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور دہشتگردوں کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ نہ رکھتا ہو۔ کے پی کے کے عوام بہت قربانیاں دے چکے اب صرف سیاست کے نام پر عوام کو کسی امتحان میں نہیں ڈالا جائے گا۔

 

اس تمام بحث کا حاصل وصول یہ ہے کہ آفریدی صاحب کا جانا ٹھہر چکا ہے۔ وزیراعظم پاکستان واپس آ چکے ہیں۔ اب جو بھی فیصلہ ہونا ہے اس کیلئے ہفتے نہیں بلکہ صرف دن یا گھنٹے لگیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیں:

مزید صوبوں سے انکار ،  صدر زرداری  اور بقا کی جنگ

بلوچستان کا مسئلہ ،  عوامی محرومی یا مقامی سرداروں کی ہوس


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے