مزید صوبوں سے انکار ، صدر زرداری اور بقا کی جنگ
تحریر: فاروق شہزاد ملکانی
وزیرداخلہ
محسن نقوی کے سسٹم گرچکا ہے ، مزید صوبے بنانا ہوں گے بیان کے بعد ایک دلچسپ
صورتحال نے جنم لے لیا ہے ۔ باخبر شخصیات کے مطابق اعلیٰ سطح پر مزید صوبوں کے
قیام کا فیصلہ ہو چکا ہے اور سہیل وڑائچ کے مطابق ہونی ہو کر رہےگی۔
اسی
تناظر میں پی ٹی آئی کے قائد عمران خان سے ڈیل کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔ سپریم
کورٹ سے ریلیف کے بعد پی ٹی آئی ورکرز کا جو مجموعی رد عمل تھا وہ بھی مثبت اشارے
کر رہا ہے۔ پی ٹی آئی ورکرز کی تنقید
اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سے ہٹ کر حکومت تک محدود ہوتی نظر آتی ہے اور مزید
صوبوں کے حق میں بیانات بھی سننے کو مل رہے ہیں۔
مسلم
لیگ ن بھی خاموش رہ کر ان صوبوں کے قیام کی خاموش توثیق کر رہی ہے ۔ اس کے کچھ
رہنما جیسے وفاقی وزیر احسن اقبال کھل کر نئے صوبوں کے حق میں بول بھی رہے ہیں۔ یعنی
کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کو بھی نئے صوبوں کی تشکیل پر کوئی اعتراض نہیں۔
پاکستان
پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی تشکیل خاص طور پر صوبہ سندھ کی تقسیم پر نالاں نظر آتی ہے۔ اس ضمن میں
مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری خاصے نالاں ہیں اس لئے وہ ناراض ہو کر لندن بیٹھ گئے ہیں۔
وہاں پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کی تفصیلات اگرچہ سامنے نہیں آئیں
لیکن کہا جا رہا ہے کہ محسن نقوی کو آصف علی زرداری نے اہم پیغام دیا ہے ۔ وہ
پیغام جب متعلقہ حکام تک پہنچے گا تب اس
کے ردعمل کے ہی ظاہر ہونے کی توقع ہے۔
گزشتہ
روز سندھ اسمبلی میں بھی پی پی پی پی ارکان اسمبلی خاص طور پر وزیراعلیٰ سندھ اور
آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ادی فریال تالپور کی جانب سے دھواں دار تقاریر کی گئی
ہیں۔ انہوں نے اپنے ارکان اسمبلی کو مخاطب
کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے روز وہ محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کو کیا منہ دکھائیں
گے اگر وہ سندھ کو تقسیم کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ اسی طرح اسمبلی میں "
مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں" کے نعرے بھی لگائے گئے۔
پیپلز
پارٹی سندھ میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے کیوں خلاف ہے؟ اس کی بہت سی وجوہات
ہو سکتی ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں۔
سب
سے پہلی اور اہم وجہ فنڈز ہیں۔ زیادہ صوبے ہونے کی وجہ سے فنڈز بھی تقسیم ہو جائیں
گے۔ تمام صوبوں کو حصہ بقدر جثہ یہ فنڈز فراہم کئے جائیں گے، اور پھر وہ فنڈز اسی
صوبے میں ہی لگائے جائیں گےوہ کسی اور جگہ نہیں لگ سکیں گے یوں فنڈز کو بڑی مقدار میں ادھر ادھر کرنا مشکل
ہو جائے گا۔ بقول بشیر میمن مزید صوبے بننے سے ششٹم ٹوٹ جائے گا، یاد رہے کہ انہوں
نے رشوت اور بدعنوانی کی جو چین کارفرما ہے اسے ششٹم سے تعبیر کیا ہے۔
دوسری
وجہ یہ ہے کہ کراچی اور حیدر آباد سونے کی چڑیا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سندھ کے
محصولات کی بڑی مقدار یہاں سے حاصل ہوتی ہے اور قوی امکان بھی یہی ہے کہ کراچی اور
حیدر آباد کو الگ صوبہ بنایا جائے گا۔ کہا
جاتا ہے کہ ان دونوں شہروں میں پی پی کی گرفت خاصی کمزور ہے اور الگ صوبہ بننے سے
جو گرفت کمزور ہونے کا تاثر لوگوں میں جائے گا اس کے بعد تو شاید پی پی کیلئے اس
صوبے میں حکومت بنانا تو دور کی بات یہاں سے چند سیٹیں لینا بھی مشکل ہو جائے گا۔ یوں
یہ بڑی انکم والا علاقہ سندھ سے علیحدہ ہو جائے گا ۔ کراچی اور حیدر آباد میں انفراسٹرکچر
اور ترقیاتی کاموں کا حشر سب کے سامنے ہے جبکہ اندرون سندھ تو حالت اور بھی ابتر
ہے۔ اندروں سندھ زیادہ تر ووٹ وڈیرہ اور
سرداری ازم کا ہے۔ ساتھ ہی خوف کا بھی ووٹ
ہے جو غریب بے چارے وڈیروں اور سرداروں کے سامنے چوں بھی نہیں کر سکتے وہ سر کیسے اٹھا سکتے ہیں اس لئے وہ اپنے سر کی سلامتی کیلئے وڈیروں اور
سرداروں کے اشاروں پر ہی ووٹ ڈالتے ہیں۔
اسی طرح جب طاقت کم ہو گی تو یہ خوف کے اندھیرے بھی چھٹنا شروع ہو جائیں
گے۔ یوں پنجاب اور کے پی کے کی طرح سندھ
بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اس لئے باخبر اور سیاسی پنڈت یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں
کہ صدر زرداری ایک بہت بڑے مسئلے میں پھنس گئے ہیں۔ اگر صوبوں کو بنانے کی حمایت
کرتے ہیں تب بھی مشکل اور اگر مخالفت کرتے ہیں تب بھی کچھ اچھا ہوتا نظر نہیں آتا۔
اس لئے سیاسی پنڈتوں کے بقول صدر زرداری پی پی کی بقا کی جنگ لڑنےکیلئے کسی خاص
حکمت علی تک پہنچنے کیلئے لندن میں شطرنج بچھا کر بیٹھے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ وہ اس
بساط میں مات کھاتے ہیں یا سامنے والے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر پاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
بلوچستان
کا مسئلہ ، عوامی محرومی یا مقامی سرداروں
کی ہوس
حکومت
سرمایہ دارانہ نظام کی محافظ بن گئی، عوام جائے بھاڑ میں


0 تبصرے