بلوچستان کا مسئلہ ، عوامی محرومی یا مقامی سرداروں کی ہوس
تحریر: فاروق شہزاد ملکانی
بلوچستان
کا عام آدمی آجکل ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ آئے روز کسی نہ کسی علاقے سے انسانی
لاشے ملنے کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ بلوچستان میں دہشت پھیلانے کا کام کرنے والی
مختلف تنظیمیں عام آدمی ، مزدور پیشہ افراد ، مسافروں یا ان سے اختلاف رکھنے والے
افراد سے ان کا جینےکا حق چھینتی رہتی
ہیں۔ بلوچستان پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگ تو عمومی طور پر
ہر وقت ان کے نشانے پر ہوتے ہیں۔ یہ تنظیمیں جو بلوچستان میں اپنے حقوق کے نام پر
دہشتگردی کر رہی ہیں وہ اپنے آپ کو انسانی حقوق کا بڑا چیمپئن کہتی
ہیں۔ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ
جس طرح کی کارووائیاں وہ کر رہی ہیں وہ دہشتگردی ، ملک دشمنی اور عوام دشمنی کے
زمرے میں آتی ہیں۔
سب
سے پہلے تو ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ ہے کیا؟ کیا یہ عوام کی محرومی ہے جو اس دہشتگردی کی
صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ اس کا سادہ سا جواب اگر میں دوں تو وہ یہ ہے کہ پاکستان
ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ یہاں ایسا نہیں ہے کہ کسی علاقے میں سب سہولیات موجود ہیں۔
پورے ملک میں انفراسٹرکچر آہستہ آہستہ ترقی کر رہا ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی
بنیادی سہولیات اور جدید سہولیات بتدریج
فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایک چھوٹا سا جائزہ
پیش کروں تو آزادی کے وقت پورے بلوچستان میں صرف 114 سکول تھے ، جن کی تعداد اب
15500 سے بڑھ چکی ہے بہت سے اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے ابھی زیر تعمیر میں جو
کچھ عرصہ میں پایہء تکمیل کو پہنچ کر علم کی روشنی پھیلانے کے سفر میں اپنا کردار
ادا کر رہے ہوں گے۔ اسی طرح اب تک 200 سے زائد کالجز اور 14 یونیورسٹیاں بن چکی
ہیں۔ تقسیم پاک و ہند کے وقت صرف 9 بنیادی مراکز صحت تھے جبکہ اس وقت 1500 سے زائد
چھوٹے بڑے ہسپتال اور ٹیچنگ ہسپتال وجود میں آ چکے ہیں۔اس وقت تک 25500 کلومیٹر سے
زائد پختہ سڑکیں بن چکی ہیں۔ عالمی معیار کی بندر گاہ اور دیگر منصوبے الگ سے مکمل
ہو چکے ہیں اور کچھ تعمیر کے مراحل میں
ہیں۔ اسی طرح اگر روزگار کا جائزہ لیا
جائے تو بلوچستان میں پڑھے لکھے افراد کو ملازمت کا ملنا بالکل مشکل نہیں۔
ان
تمام اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان کا
مسئلہ محرومی اور بے روزگاری تو ہرگز نہیں ہے۔ تو پھر اصل مسئلہ ہے کیا؟ اس پر بات
کرنے سے پہلے میں آپ کو مختصر اور جامع طور پر بتاتا چلوں
کہ بلوچستان کابڑا مسئلہ بلوچستان کے اپنے
بڑے خود ہیں۔ یہ بڑے واضح طور پر یہاں کے
مقامی سردار اور وڈیرے ہیں۔ مقامی سرداروں اور وڈیروں کے منہ کو خون لگا ہوا ہے۔
میں واضح کرتا چلوں کہ سب سردار اور وڈیرے ایسے نہیں ہیں ، کچھ ہی لوگ ایسے ہوتے
ہیں جو خرابیاں پیدا کرتے ہیں۔ یہ انگریزوں سے ان کی چاکری کرنے کیلئے پیسہ اور
جاگیریں لیا کرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی ریاست پاکستان نے ان کی یہ عادت
چھوٹنے نہیں دی۔ کیونکہ کسی بھی بڑے منصوبے کی شروعات کے وقت یہ سردار اور وڈیرے
اپنا حصہ طلب کر لیا کرتے تھے اور ریاست انہیں مجبوری یا خوشی سے کروڑوں روپے دے
دیا کرتی تھی ۔ ان سرداروں کا یہ کہنا ہوتا تھا کہ صوبے میں ترقیاتی کام کریں یا
نہیں مگر انہیں بھنگا ضرور ملنا چاہئے نہیں تو وہ اپنے عوام کے ذریعے منصوبے پہ
کام نہیں ہونے دیں گے۔ ابتداء میں تو حکومت مئیں سردار مئیں سردار کرنے والوں کے
شر کے خوف سے ان سرداروں کو جگا ٹیکس دیتی رہی پھر یہ ہوا کہ عام آدمی کچھ سیانا
ہو گیا اور سرداروں کے چولہے کا ایندھن بننے سے انکاری ہوا تو ان سرداروں نے حکومت
سے اینٹھے پیسے سے اپنے مسلح افراد ملازم رکھ لئے اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ یہ چند افراد سے پورے گروہ اور پرائیویٹ ملیشیا
میں تبدیل ہو گئے۔ اس ملیشیا کے اخراجات پورے کرنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے تمام سرکاری محکموں سے جگا ٹیکس وصول کرنا
شروع کر دیا پھر بات یہاں بھی نہ رکی اور پرائیویٹ اداروں اور عام آدمی کو لوٹنا
شروع کر دیا۔ ڈکیتی چوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں عام ہو گئیں۔پھر ان سرداروں نے اپنا
اچھا امیج برقرار رکھنے کیلئے ان پرائیویٹ ملیشاؤں کی تنظیمیں بنا دیں اور ان
تنظیموں کا سربراہ اور کرتا دھرتا اپنے پالتو لوگوں کو بنا دیا تاکہ لوگوں کی
آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے کہ ان مسلح لوگوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ پھر ان
کو عوامی حقوق کا تڑکا لگا کر دنیا اور بلوچستان کی عوام کے قریب کر دیا کہ یہ جو
ڈاکو صاحب ، دہشتگرد صاحب ، اغوا کرنے والے صاحب ہیں یہ آپ کے حقوق کیلئے لڑ رہے
ہیں ۔ یوں یہ بدمعاش "عوامی حقوق کا ٹچ" دے کر معزز بھی ٹھہر گیا۔
یہاں
ایک اور موڑ آتا ہے۔ دنیا کی وہ طاقتیں جو کسی نہ کسی وجہ سے بغض پاکستان میں
مبتلا تھے اور پاکستانی فوج کی جانثاری اور طاقت کے باعث لڑ نہیں سکتے تھے انہوں
نے دیکھا کہ ان کرائے کے قاتلوں کو ہائر کیا جائے ایک تو یہ پاکستان کو اندر سے
نقصان پہنچائیں گے اور دوسرے یہ جنگ بہت سستی بھی پڑے گی۔ یوں انڈیا جیسے ازلی
دشمن نے ان سرداروں کو جو نجی ملیشیاؤں کے سرپرست تھے انہیں دانہ ڈالنا شروع کر دیا یوں ان کو ایک
اور بزنس ہاتھ لگ گیا۔ پھر انہوں کروڑوں اربوں بٹورے اور اپنے ہی گھر اور ملک کا
ستیاناس کرنا شروع کر دیا۔ کیونکہ ان کا مقصد پیسہ ہے جہاں سے آئے۔ حکومتی اداروں
نے سختی کی تو کچھ لوگ بیرون ملک منتقل ہو گئے اور کچھ اپنا سیاسی امیج برقرار
رکھتے ہوئے ابھی یہاں کی سیاست میں حصہ لے کر نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے
ہیں۔
مجھے
یقین ہے کہ آپ ان سب باتوں کے بعد اچھی طرح سے سمجھ گئے ہوں گے کہ بلوچستان کا اصل
مسئلہ کیا ہے؟ اگر پھر بھی آپ کو پتا نہ
چلے تو آپ بھی ان بااختیار لوگوں کی طرح کے ایک عام آدمی ہیں جو سب کچھ جانتے
بوجھتے بھی ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں پا رہے۔
آخر میں یہ دعا ضرور کیجئے گا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن عزیز کو سدا قائم و
دائم رکھے ، دشمن اپنے منہ کی کھائے، اس کا اپنا بم اس کے منہ پر وجے اور وہ فنا
ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین
پاکستان
زندہ باد
یہ بھی پڑھیں:
حکومت
سرمایہ دارانہ نظام کی محافظ بن گئی، عوام جائے بھاڑ میں۔ فاروق شہزاد ملکانی
آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی شورش: عوامی حقوق کی تحریک یا کسی بڑی سازش کا حصہ؟


0 تبصرے