حکومت سرمایہ دارانہ نظام کی محافظ بن گئی، عوام جائے بھاڑ میں۔ فاروق شہزاد ملکانی

حکومت سرمایہ دارانہ نظام کی محافظ بن گئی، عوام جائے بھاڑ میں۔ فاروق شہزاد ملکانی

 

حکومت سرمایہ دارانہ نظام کی محافظ بن گئی، عوام جائے بھاڑ میں

تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہ کر کے عوام میں پائے جانے والے اس تاثر پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ مسلم لیگ ن سرمایہ داروں کی جماعت ہے۔ یہ عوامی حقوق کو اولیت دینے کی بجائے سرمایہ داروں کے مفاد کو تحفظ دیتی ہے۔ حالانکہ حکومت اگر واقعی عام پاکستانی کے مفاد کو اولیت دیتی تو آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح پر آ چکی ہوتیں۔ اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جب جنگ شروع ہونے کے بعد قیمتیں بڑھائی گئی تھیں تو اس وقت آئل کمپنیوں کے پاس زیادہ زخیرہ موجود تھا جبکہ اس وقت سپلائی میں کمی کے باعث ان کے پاس بہت کم ذخیرہ باقی بچا ہوا ہے یعنی اگر اب قیمتیں کم کر دی جاتیں تو کمپنیوں کو جو نقصان ہوتا وہ اس منافع سے بہت ہی کم ہوتا جو قیمتیں بڑھانے سے انہیں ہوا تھا۔ لیکن پھر بھی حکومت نے ان سرمایہ داروں کا ساتھ دیا اور عوام پر بوجھ برقرار رکھا۔ جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ فراہم کر رہی ہے جبکہ عام عوام اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ 

 

اس کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے جو کرایوں اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا تھا قیمتیں کم ہونے کے بعد حکومت نہ تو کرایوں میں خاطر خواہ کمی کرانے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ روزمرہ استعمال میں آنے والی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کرائی جا سکی ہے ۔ 

 

حکومت اپنی ہر ناکامی اور نااہلی کا بوجھ عام عوام پر منتقل کر دیتی ہے۔ آئی پی پیز کے ساتھ غلط معاہدے کئے گئے اس پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے عام  عوام کو مہنگی ترین بجلی خریدنے پر مجبور کر دیا گیا اور ستم بالائے ستم اس پر ٹیکس در ٹیکس بھی لاگو کر دئیے گئے اور عوام کا خون نچوڑنے کیلئے ایسے ایسے ٹیکس لگائے گئے جن کے نام بھی حکومتی مشینری کے کاریگروں کو نہ سوجھے بلکہ یہ لکھ دیا گیا کہ اضافی ٹیکس، مزید ٹیکس، مزید اضافی ٹیکس، اضافی لیوی، مزید اضافی لیوی وغیرہ وغیرہ اسی طرح میٹر بجلی جس کی اوپن مارکیٹ میں قیمت چند سو روپے ہے مگر بجلی کمپنیاں ہزاروں روپے کنکشن کے وقت وصول کرتی ہیں بلکہ اسی صارف کے میٹر پر ہر ماہ کرایہ میٹر اور اس کرائے پر اوپر لکھے گئے تمام ٹیکس بھی وصول کرتی ہیں۔ 

 

اسی طرح اگر پٹرولیم مصنوعات کی طرف نظر دوڑائی جائے تو عالمی مارکیٹ کی قیمت اور پاکستان میں وصول کی جانے والی قیمت کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ آدھے سے زائد تو اس پر ٹیکسز لگائے گئے ہوتے ہیں۔ ڈیزل پاکستان میں زیادہ مہنگا ہوتا ہے حالانکہ ڈیزل کی 80 فیصد سے زائد پیداوار تو اپنی ہے پھر عوام کو چونا کیوں لگایا جاتا ہے۔ وہ اگر میں آپ کو بتاؤں تو آپ کو اس میں بھی حکومت کی عوام دشمنی واضح نظر آئے گی۔ یہ ڈیزل زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر ڈیزل سستا ہو گا تو کرایوں میں کمی آئے گی مصنوعات کی ترسیل سستے داموں ہو گی اور عوام کو بھی سستی ملیں گی۔ جو سرمایہ دارانہ نظام کے محافظوں کو کبھی بھی قبول نہ ہو گا کہ عام آدمی سکھ کا سانس لے۔ کسی زمانے میں آپ لوگوں کو معلوم ہو گا کہ ڈیزل پٹرول سے آدھی قیمت کا ہوا کرتا تھا پھر کسی سرمایہ دارانہ نظام کے انجینئر کو بڑی دور کی سوجھی اور اس نے ماحول کی خرابی کا بہانہ بنا کر ڈیزل کو پٹرول سے بھی مہنگا کر دیا کہ اس سے ڈیزل گاڑیوں کی امپورٹ کی حوصلہ شکنی ہو گی حالانکہ اس کا اگر سیدھا سادہ سا اگر حل ڈھونڈا جاتا تو یہ تھا کہ ڈیزل گاڑیوں کی امپورٹ پر پابندی لگا دو اور اگر پابندی لگانا ممکن نہ تھا تو اس پر ٹیکسز دو گنا چار گنا کر دو کہ کوئی منگوا ہی نہ سکے لیکن چونکہ مقصد ماحولیات تھا ہی نہیں بلکہ اس کی آڑ میں عام عوام کا ناطقہ بند کرنا مقصود تھا۔ کرائے مہنگے ہوئے تو اشیاء صرف کی قیمتیں بڑھیں تو عام آدمی  پہلے پہل اچھا کھانے سے گیا، اچھا پہننے سے گیا، اچھا رہنے سے گیا اور اب تو یہ حالت ہے کہ دو وقت کے کھانے سے بھی گیا۔

 

پاکستان میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں چاہے بڑھ کے پہلے سے کم ہو جائیں مگر بڑھی ہوئی اشیاء صرف کی قیمتیں اور کرائے کم نہیں ہوتے۔ اسے حکومت کی نااہلی کہا جائے یا نیت کا فتور کہ وہ مختلف فورسز اور ادارے بنا کے بھی اس مسئلے پر قابو نہیں پاتی۔ اب بھی دیکھ لیں کہ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پانچ سو سے اوپر ہوئیں اس وقت جو کرائے مقرر کئے گئے اور اشیاء صرف کی قیمتیں بڑھائی گئی وہ اب تک تقریباً اسی جگہ موجود ہیں۔ حکومتی نااہلی یا بددیانتی کی ایک اور مثال دیتا چلوں کہ پوری جنگ کے دوران گھریلو گیس کی قیمت تین سو سے تھوڑا اوپر تک ہی رہیں مگر پورے پاکستان میں یہ قیمتیں چھ سو سے اوپر چلی گئیں حتیٰ کہ اب بھی ساڑھے چار سو سے پانچ سو تک فروخت جاری ہے۔ کوئی حکومتی عہدیدار یا ادارہ ان سے پوچھنے والا نہ تھا اور نہ ہے۔ 

 

اس کے علاوہ دیکھ لیں کہ ڈائریکٹ ٹیکس سے جمع ہونے والا ریونیو آٹے میں نمک کے برابر ہے حالانکہ دنیا کے ہر مہذب ملک میں عام عوام کو مشکلات سے بچانے کیلئے ان ڈائریکٹ ٹیکس کم سے کم لگایا جاتا ہے ان کی آمدن کا بڑا ذریعہ ڈائریکٹ ٹیکس سے آتا ہے جبکہ پاکستان کی ساری انکم ہی ان ڈائریکٹ ٹیکس سے آتی ہے یعنی اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ دار ٹیکس دینے کو تیار ہی نہیں اور حکومت ان سے ٹیکس لینے پر آمادہ ہی نہیں۔ سننے میں آ رہا ہے کہ دکانداروں پر ایک فکس ٹیکس لگانے کی تجویز ہے اس تجویز میں کہیں بھی اس بات کی تخصیص نہیں کی گئی کہ ایک دکاندار یا تاجر ہے جو کروڑوں کا کاروبار کرتا ہے اور ایک بے چارا چند ہزار کہیں سے لے کر دکان کھول رکھی ہے وہ بے چارا اس سے اپنے بچوں کی روزی بھی بڑی مشکل سے کما پاتا ہے ہر دو پر ایک جتنا ہی ٹیکس ہے۔ لو جی سرمایہ دار یہاں بھی جیت گیا ہے۔ بس اتنا کہوں گا 

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں 

لاکھوں ہیں شکوے کیا کیا بتاؤں

 

یہ بھی پڑھیں:

امیروںکے قبرستان میں غریب عوام مگر مچھوں کے حوالے

کچھ تو ہمارا بھی لگتا ہے خدا آخر – تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

سمتدرست کریں، غریبوں کو نوچنا چھوڑ دیں

یہ ایلیٹ کلاس کا پاکستان ہے لہذا سسک سسک کر مرتے رہیں


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے