عزیز اللہ قیصرانی، تونسہ کی سیاست میں مزاحمت کا ستعارہ
تحریر: فاروق شہزاد ملکانی
"ساڈا
حق اتھے رکھ" کہنا تو آسان ہے مگر
حق لینے کیلئے جاگنا اور جدوجہد کرنا بہت مشکل ہے۔ بغیر جاگے اور گھر سے نکلے حق
کا حصول نہ کبھی پہلے ممکن تھا اور نہ اب ممکن ہے بلکہ اب تو اور مشکل ہو گیا ہے۔
تحصیل تونسہ پورے پنجاب کی واحد تحصیل ہے جہاں غربت، بے روزگاری، پسماندگی، اور
عوامی حقوق غصب کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس سب کے باوجود عوامی بے حسی ہمیشہ
سے انتہاؤں کو چھوتی رہی ہے۔ شاید یہ اس لئے ہے کہ یہاں پر سرداری نظام کے ساتھ
ساتھ پیر پرستی نے ہمیشہ سے اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ عوام سرداروں کے چنگل سے
نکلنے کیلئے گدی نشینوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ انہیں بہت سہانے خواب دکھا کر سلا
دیتے ہیں۔ کیونکہ عوام کا جاگنا اور اپنے حقوق لینے کیلئے آواز اٹھانا ان کے بھی
مفادات کے خلاف ہے۔ جس طرح پی ٹی آئی کے دوست ن لیگ اور پیپلز پارٹی کیلئے یہ بات
کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی باریاں لگائی ہوئی تھیں اسی طرح اگر دیکھا جائے تونسہ
میں بھی سرداروں اور گدی نشینوں نے بھی اپنی باریاں لگائی ہوئی ہیں۔ جو بھی منتخب
ہوتا ہے وہ سوائے طفل تسلیوں کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے لولی پاپ بھی ساتھ لے
آتا ہے۔ تونسہ کے تمام روایتی سیاست دانوں کی کوشش رہی ہے کہ عوام کو ٹکی ٹافیوں اور ولیموں اور فاتحہ خوانیوں سے راضی
رکھا جائے۔ جس میں وہ اب تک کامیاب ہیں۔
اس
وقت تحصیل تونسہ کے عوام بدترین مسائل کا شکار ہیں۔ اس کے باوجود عوام کی بڑی
تعداد اب بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ ایسے میں ایک نوجوان جو عوامی مشکلات
کو درد اپنے سینے میں لے کر سیاسی افق پر نمودار ہوتا ہے جو عوام کو جگانے کی سعی
کرتا ہے، عوامی مسائل کے حل کیلئے کوششیں شروع کر دیتا ہے اس کا انداز سیاست
روایتی سیاسی خانوادوں سے بہت مختلف ہے۔ اس نے عوام مسائل اور حقوق کی عدم فراہمی
پر دیگر سیاستدانوں کی طرح خاموشی اختیار کرنے کی بجائے بولنا اور عوام کو جگانا
اور حقوق مانگنے کا طریقہ سکھانا شروع کر دیا ہے۔ ان کی کوششوں سے عوام میں اس بات
کا ادراک جاگنا شروع ہو چکا ہے کہ مسائل سے جان چھڑانا ہے اور حقوق کا حصول ممکن
بنانا ہے تو پھر ٹھنڈی چھاؤں چھوڑ کر دھوپ میں پسینہ بہانا ہو گا۔ بصورت دیگر آج
خود مسائل کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں کل ان کے بچے بھی اسی دلدل میں ڈوبے ہوں گے۔
اگر اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دے کر جانا ہے تو پھر اس جدوجہد کا آغاز آج سے کرنا
ہو گا۔ اس نوجوان سیاستدان کے نام سے آپ سب بخوبی واقف ہوں گے۔ عزیز اللہ قیصرانی
نے غیر روایتی سیاست کی بنیاد رکھ کر اہل تونسہ کیلئے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا
ہے ۔ اب دیکھتے ہیں عام عوام ان کا ساتھ کس حد تک دیتے ہیں کیونکہ اگر عوام ان کا
ساتھ نہیں دیں گے تو مسائل کا حل اور حقوق کا حصول ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو
گا۔ لیکن مجھے پھر یقین ہے کہ یہ نوجوان ہمت کبھی نہیں ہارے گا۔ اپنے چند ساتھیوں
سمیت یا اکیلے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
مجھے
اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب میں نے صحافت کا آغاز کیا تھا تو بہت سے لوگوں نے میری
حوصلہ شکنی کی کوشش کی مجھے روایتی سیاست ، سرداری نظام ، پیرپرست متوالوں سے
ڈرانے کی کوشش کی، یہاں کے روایتی دینی رہنماؤں کی سفاکیوں سے دور رہنے کی تلقین کی۔
لیکن میں نے جو صحیح سمجھا اسے اپنی تحریروں کا حصہ ضرور بناتا رہا۔ مجھے مختلف
موقع پر ڈرایا اور دھمکایا جاتا رہا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو نہ کسی سے
ڈرتا ہے اور نہ ان دھمکیوں سے مرعوب ہو کر کوئی ردعمل دیتا ہے بلکہ اپنے راستے پر
خاموشی سے گامزن ہے تو پھر انہوں نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔ اسی طرح مجھے یقین
ہے کہ روایتی سیاستدان عزیز اللہ خان قیصرانی کے راستے میں بھی روڑے اٹکانے کا کام
ضرور کریں گے اور اسے اپنے عزائم سے باز رکھنے کی کوشش بھی کریں گے مگر یہ نوجوان
راہ کے ان پتھروں کو ہٹا کر اپنی منزل کی جانب گامزن رہیں گے۔
اگرچہ
اس منزل کا حصول کچھ آسان نہیں لیکن ناممکن بھی نہیں۔ تاریخ کے ورق الٹ کر دیکھیں
تو بخوبی اندازہ ہو گا کہ کل کے بڑے بڑے سورما آج تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے نظر
آئیں گے۔ تاریخ صرف انہی کا نام جلی حروف میں کندہ کرتی ہے جو تاریخ میں درست سمت
میں کھڑے نظر آتے ہیں اور مزاحمت کا استعارہ ہوتے ہیں، اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت
ڈال کر عوامی حقوق کی بات کرتے ہیں اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
عزیز اللہ قیصرانی نے بھی اگر اپنا راستہ نہ بدلہ ، ہمت نہ ہاری ، روایتی سیاست کی
ریشہ دوانیوں کا شکار نہ ہوئے تو مجھے یقین ہے کہ وہ ہماری تاریخ کا روشن حوالہ
ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
بلوچستان
کا مسئلہ ، عوامی محرومی یا مقامی سرداروں
کی ہوس
حکومت
سرمایہ دارانہ نظام کی محافظ بن گئی، عوام جائے بھاڑ میں۔


0 تبصرے