تونسہ شریف کینسر ہسپتال ایک دیرینہ خواب۔۔۔ فاروق شہزاد ملکانی

تونسہ شریف کینسر ہسپتال ایک دیرینہ خواب۔۔۔ فاروق شہزاد ملکانی

 

تونسہ شریف کینسر ہسپتال ایک دیرینہ خواب

تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

تونسہ شریف کینسر ہسپتال تونسہ کے باسیوں کا ایک دیرینہ خواب ہے۔ جو شاید بر آنے میں وقت لگے گا ، لیکن اگر دیکھا جائے تو اس وقت تونسہ شریف کو ایک کینسر ہسپتال کی اشد ضرورت ہے۔ تونسہ شریف کی خبریں اگر ملاحظہ کی جائیں تو آئے روز کینسر سے ہونے والی اموات کا تذکرہ ملتا ہے۔ لیکن اگر میں یہ کہوں کہ ان رپورٹ ہونے والی اموات سے حقیقت میں کینسر سے ہونے اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔  کیونکہ تونسہ شریف پاکستان کا  "یونان صغیر" ضرور ہے مگر غربت اور بے روزگاری میں بھی اتنا ہی نمایاں ہے ۔ غربت اور تنگدستی کے باعث آدھے سے زائد مریض تشخیص تک پہنچ ہی نہیں پاتے اور پراسرار بیماری کا شکار ہو کر اچانک خالق حقیقی سے جا ملتے ہیں۔

 

غربت کے باعث کینسر اور دیگر مہلک امراض کی تشخیص کیلئے وسائل کا نہ ہونا اور اب تو مہنگائی کے بے ہنگم بڑھنے سے لاہور اور اسلام آباد جانے کیلئے بھی لوگوں کے پاس کرائے کے پیسے پورے نہیں ہو پاتے تو علاج کس طرح ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدھے سے زائد مریض گھر میں ہی گھٹ گھٹ کر موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔

 

پچھلے کچھ عرصہ سے تونسہ شریف کے نوجوانوں کی جانب سے  کینسر ہسپتال کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے جو کہ قرین انصاف ہے حکومت کو اس جانب توجہ دے کر فوری طور پر اس جانب توجہ دینی چاہئے اور ابتدائی طور پر کم از کم تونسہ ہسپتال میں مفت تشخیصی مرکز قائم کر دینا چاہئے۔ تاکہ تونسہ شریف کے باسی آسانی سے بر وقت ان موذی امراض کی تشخیص کروا سکیں اور علاج کی جانب متوجہ ہو سکیں۔

 

اس کے علاوہ حکومت پنجاب کو چاہیئے کہ فوری طور پر تونسہ شریف کے ہر چھوٹے بڑے قصبے میں شہریوں کو پانی صاف کرنے کے چھوٹے پلانٹ مفت فراہم کرے تا کہ صاف پانی ہر شہری حاصل کر سکے۔ میں نے پانی صاف کرنے کے بڑے پلانٹ لگانے کی بات اس لئے نہیں کہ کیونکہ یہ پلانٹ پہلے ہی کافی علاقوں میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ صرف نمائشی حد لگے قائم ہوئے لیکن چند ہی دن کام کرنے کے مستقل بند ہو چکے ہیں۔ لاکھوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مقامی آبادی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اگر اسی رقم سے گھروں میں لگائے جانے والے فلٹر لوگوں کو فراہم کر دیئے جاتے تو زیادہ فائدہ ہوتا ۔

 

یہ تمام باتیں لکھنے کا متمع نظر صرف یہ ہے کہ کینسر ہونے کی بنیادی وجوہ سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ان کے علاج کیلئے ہسپتال بھی قائم کیا جائے۔ مجھے یقین ہے حکومت پنجاب اس جانب ضرور غور کرے گی اور پنجاب کے اس دور افتادہ علاقے میں بھی رہنے والے لوگوں کو مرتبہء انسانیت پر فائز رہنے کے قابل سمجھے گی اور وہ جو کوششیں اور منصوبے لاہور میں فراہم کرنے کیلئے کرتی ہے وہی خلوص تونسہ شریف کے لوگوں کیلئے بھی دکھائے گی۔  میں نے یہ بات اس لئے کی ہے کہ ہمیشہ واضح نظر آتا ہے کہ حکومت پنجاب ہمیشہ لاہور کو اولیت دیتی ہے ۔ میرا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ لاہور کو کیوں اولیت دیتی ہے میرا مسئلہ یہ ہے کہ تونسہ شریف جیسے پسماندہ علاقوں کو بھی نظر انداز نہ کرے اور یہاں جدید سہولیات کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولتیں بھی فراہم کرے ۔ یعنی تونسہ شریف، ڈیرہ غازیخان، راجن پور، لیہ، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، رحیم یار خان، صادق آباد ، روجھان جیسے علاقے کے لوگوں کو بھی جینے کا حق دے۔ وہ گھٹ گھٹ کر مرتے رہے تو حکمرانوں کی حکمرانی پر سوال اٹھتا رہے گا۔ اس دنیا میں کچھ نہ ہو سکا تو بروز آخرت اللہ کی عدالت میں یہ سوال زور سے بلند ہو گا اور پھر ہمارے یہ حکمران اس کا کیا جواب دیں گے؟

 

یہ بھی پڑھیں:

تونسہ شریف ، داؤ موڑ اڈا پر فائرنگ ، ایک شخص جاں بحق

خواجہ آصف کا بھیانک سچ اور میرا کلاس فیلو میٹر ریڈر... فاروق شہزاد ملکانی


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے