خواجہ آصف کا بھیانک سچ اور میرا کلاس فیلو میٹر ریڈر
تحریر: فاروق شہزاد ملکانی
خواجہ
آصف سے ہر پاکستانی واقف ہو گا اور اگر کسی کو کوئی شک ہے یا کم واقفیت ہے تو آپ
کو بتاتا چلوں کہ خواجہ آصف اس وقت پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع ہیں۔ خواجہ آصف
آدھے درجن سے زائد بار وزیر رہ چکے ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں میں شمار
ہوتے ہیں۔ خواجہ آصف قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف کے زمانہء کالج کے
دوستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ پاکستان کی طاقتور اشرافیہ کے بھی کافی قریب سمجھے
جاتے ہیں۔ ان کا طاقتور لوگوں سے براہ راست تعلق ہمیشہ رہا ہے۔
خواجہ
آصف کے بھیانک سچ سے متعلق بتانے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ خواجہ آصف
واپڈا کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ آپ میں سے بہت سے دوست ان کے اس ٹویٹ سے متعلق ضرور
سن چکے ہوں گے جو انہوں نے لیسکو اہلکاروں کی رشوت ستانی سے متعلق کیا تھا۔ ان کے
اس ٹویٹ نے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ حتیٰ کہ ان کے اس بیانئے کو
کاؤنٹر کرنے کیلئے وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو پریس کانفرنس کرنا
پڑی۔ سب سے پہلے تو آتے ہیں خواجہ آصف کے
ٹویٹ کی جانب کہ انہوں نے اس ٹویٹ میں کیا کہا ہے اور پھر اس کا پوسٹ مارٹم کرتے
ہیں کہ کیا آیا واپڈا ڈسکوز میں اس طرح کا طرز عمل اور رشوت ستانی کتنی عام ہے۔
خواجہ
آصف کا ٹویٹ ملاحظہ فرمائیں
ٹویٹ
تو آپ نے دیکھ اور پڑھ لیا ہے کہ انہوں نے اس میں کیا کہا ہے۔ اس خاص واقعہ سے
متعلق تو کچھ کہنا مشکل ہے لیکن یہ بات میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس اعلٰی
پائے کی شخصیت اور عہدیدار بغیر کسی وجہ
اور حقیقت کے اس طرح کا الزام نہیں لگا سکتا۔ لیکن اگر لیسکو، میپکو ، کیسکو یا اس
طرح کی بجلی سپلائی کی کمپنیوں کے اہلکاروں کا مجموعی رویہ عام صارف کے ساتھ کچھ مختلف نہیں ہوتا ۔ اچھے برے لوگ ہر
جگہ موجود ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا کہ ہر بندہ صارفین کو تنگ کرتا ہے یا رشوت
ستانی میں ملوث ہوتا ہے قریں از قیاص نہیں لیکن چونکہ ٹرانسفارمر تبدیلی کی طرح کے
کام میں متعلقہ ڈسکو کے اہلکار مجموعی طور پر شامل ہوتے ہیں۔ ان میں اگر کسی ایک اہلکار نے
بھی برا رویہ اپنایا یا رشوت وصول کی تو ملبہ سب پر آتا ہے۔ لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہر سب
ڈویژن، ڈویژن، سرکل یا متعلقہ دفاتر میں چند ملازم ایسے ضرور ہوتے ہیں جو سارے
ماحول کو آلودہ کر کے رکھتے ہیں اور سب سے تشویشناک بات یہ ہوتی ہے کہ اعلیٰ
افسران بھی ان کا کچھ بگاڑ نہیں پاتے۔ زیادہ سے زیادہ کچھ دنوں کی معطلی اور کچھ
مال مفت میں سے حصہ ان کے راہ کی تمام رکاوٹیں دور کر دیتا ہے۔ پھر وہی دفتر، وہی
صارفین ، لوٹ مار اور ملازم بادشاہ کا راج جسے کوئی مائی کا لال ہلا تک نہیں سکتا۔ میرے
ذاتی تجربے کے باعث اگر میں یہ کہوں کہ 2013-18 تک کا دور عام صارف کیلئے کافی
بہتر تھا۔ کسی بھی شکایت کا فوری نوٹس لیا جاتا تھا۔ وزیر مملکت عابد شیر علی نے
اپنا ایک نمبر پبلک کیا ہوا تھا۔ دو چار بار مجھے ذاتی طور پر میسج کرنے کا اتفاق
ہوا اور خوش قسمتی سے چند ہی گھنٹوں میں وہ شکایت دور ہوتی نظر آئی۔ جل جانے والا
ٹرانسفارمر چند گھنٹوں میں تبدیل ہوتا نظر آیا ۔ اسی طرح میپکو افسران ، علاقہ
معززین اور صحافیوں پر مشتمل وٹس ایپ گروپ بنائے گئے۔ تاکہ عوامی شکایات بروقت حل
کی جا سکیں اور ایسا ہوتا ہوا میں نے خود تجربہ بھی کیا ورنہ اس سے قبل اور بعد
ازاں واضح طور پر دیکھا کہ صارفین کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔
خواجہ
آصف کے ٹویٹ کے تناظر میں اگر میں بطور صحافی اپنے تجربات بیان کروں تو مجھے ان کے
ٹویٹ میں کوئی غلط بیانی بظاہر نظر نہیں آتی۔ کیونکہ ڈسکوز اہلکاروں کا یہ رویہ اب
ایک کلچر کی شکل اختیار کر چکا ہے کہ اگر کبھی ایسا ہوتا نظر نہ آئے کو اچھنبا
ہوتا ہے کہ کہیں میں کسی اور دنیا میں تو نہیں پہنچ گیا۔ ایک صحافی کے طور پر
میپکو اہلکاروں کی بے ضابطگیوں کو ہمیشہ رپورٹ کیا ہے اور اس کی ہمیشہ سزا بھی
بھگتی ہے۔ کبھی ڈیٹیکشن بلوں کی صورت میں اور کبھی اضافی یونٹ ڈال کے بھاری بل کی شکل میں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے
فضل سے میں نے کبھی بھی نہ بجلی چوری کی ہے اور نہ اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھا کر
میپکو اہلکاروں کو مجبور کیا ہے کہ میرے دفتر یا گھر میں ڈائریکٹ بجلی لگا دو۔
حالانکہ بہت بار دیکھا ہے کہ چھوٹے سے علاقوں کے گمنام اخباروں کے صحافی بھی اپنے
دفاتر میں ڈائریکٹ کنڈیاں لگا کر اے سی چلا رہے ہوتے ہیں اور پھر وہاں کے متعلقہ
ڈسکو اہلکار وہاں صبح شام حاضری بھی لگواتے ہیں ، مقصد کہنے کا یہ ہے کہ یہ
ڈائریکٹ لگی ہوئی کنڈیاں ڈسکو اہلکاروں نے خود لگا کے دی ہوتی ہیں۔ جبکہ مجھے
انہوں نے خبر لگانے کی سزا کے طور پر معاشی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ، ایک بار تو
میرے کلاس فیلو میٹر ریڈر نے ہی میرے دفتر
کے کمرشل میٹر پر سینکڑوں اضافی یونٹ ڈال کر بھاری بل بھجوا دیا ۔ حالانکہ میرا
قصور یہ تھا کہ میں نے صارفین کی شکایت پر خبر لگائی تھی کہ انہیں اضافی یونٹ ڈال
کر بھاری بل بھیجے جا رہے ہیں۔ اب کی بار میں خبر بھی نہیں لگا پایا کیونکہ یہ
میرا اپنا معاملہ تھا اور میں ذاتی مسائل کو خبر کم ہی بناتا ہوں۔ اپنے دوست کا یہ واقعہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ
کالی بھیڑیں نہ صرف سسٹم میں موجود ہیں بلکہ منہ زور بھی بہت ہیں اور ایسا کسی
سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں اگر انہیں ان کےکئے کی سزا دی جاتی تو وہ کوئی بھی
بدعنوانی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتے۔ ابھی کچھ دنوں قبل ایک صحافی دوست نے ایک
میپکو اہلکار کے خلاف ایل خلاف ضابطہ کام کرنے کی خبر لگائی۔ خبر لگنے کے بعد ایک
اعلیٰ افسر نے اسے طلب کرلیا۔ پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ ان صاحب بہادر
نے اپنا حصہ لیا اور جو اہلکار سب کچھ ڈکارنے کی سازش کر رہے تھے اس خبر سے
ایکسپوز ہو گئے اور انہیں "ان " کا حصہ نکالنا پڑا اور وارننگ بھی مل
گئی کہ آئندہ اکیلے اکیلے کھایا تو سخت کارووائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:
اشرافیہ کی قربانی اور وزیراعظم کی بے بس


0 تبصرے