امید کی کرن پر دشمن کی بری نظر... تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

امید کی کرن پر دشمن کی بری نظر

امید کی کرن پر دشمن کی بری نظر

تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کےدرمیان امن مذاکرات کیلئے تیاریاں عروج پر ہیں۔ ایران کی مذاکراتی ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہے جبکہ امریکہ کے نمائندگان آج کسی وقت پاکستان پہنچنے والے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امن مذاکرات کا پہلا دور آج شام ہو سکتا ہے۔ ان مذاکرات سے بڑی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔ ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے تمام اسلام و پاکستان دوست پر امید اور دعا گو ہیں۔  عالمی سفارت کاری پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے پرامید ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات امن کا پیغام لیکر ہی اختتام پذیر ہوں گے کیونکہ اس  طرح کے اعلیٰ سطح پر ہونے والے براہ راست مذاکرات یونہی نہیں ہوتے ، یہ میز تب ہی سجائی جاتی ہے جب بہت کچھ پہلے سے طے ہو چکا ہوتا ہے صرف میز سجا کر لوگوں کو تاثر دینا ہوتا ہے کہ ایک بڑی بیٹھک سجی ہے تب ہی یہ مسائل حل ہوئے ہیں ۔ لوگوں کو لگے کہ واقعی بہت سی کوششیں ہوئی ہیں۔ بصورت دیگر خاموش سفارتکاری کر کے مسائل کے حل کا اعلان کر دیا جائے تو لوگوں کو لگے کا یہ نورا کشتی تھی اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی ہے۔  دوسرے ان مذاکرات کا مقصد ان فیصلوں کو تحریری شکل دے کر پوری دنیا کو گواہ بنانا بھی ہوتا ہے کہ ان مذاکرات میں یہ یہ فیصلے ہوئے ہیں، یہ شرائط و ضوابط طے ہوئے ہیں تا کہ مستقبل میں  فریقین اگر یہ معاہدہ توڑیں تو دوسرا فریق دنیا کو دکھا سکے کہ ان کا حریف کتنا بد عہد اور ناقابل اعتبار ہے۔

 

ان مذاکرات سے جو امید کی کرن پھوٹی ہے اس پر دشمن کی بری نظرہے اس بارے میں بہت سے دوست جانتے ہوں گے کہ ان مذاکرات کو کچھ دشمن ممالک اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ ان مذاکرات کو ہر صورت ناکام بنایا جائے اور کچھ ایسا کھیل کھیلا جائے کہ یہ مذاکرات ختم ہو جائیں یا کم از کم پاکستان میں کامیاب نہ ہوں ۔ اس کیلئے وہ بہت سی سازشیں کر رہے ہیں۔ ایسا وہ اپنے فائدے اور پاکستان دشمنی میں کر رہے ہیں۔ جس سے لگتا ہے پاکستان ہی وہ ملک ہے جو اسلام دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔ اسرائیل اور بھارت سے تو ہمیں کسی اچھائی کی امید تو پہلے بھی نہیں تھی کیونکہ پاکستان نے اسرائیل کو اب تک نہ صرف تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ جہاں بھی اسرائیل کی جارحیت اور فلسطینیوں کی بات ہوتی ہے وہاں پاکستان اسرائیل کی مخالفت میں اٹھنے والی سب سے طاقتور آواز ہوتی ہے۔ اس لئے اسرائیل پاکستان کو اپنا دشمن نمبر 1 گردانتا ہے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے ہر وقت سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ان مذاکرات کو بھی ختم کروانے کیلئے لبنان پر جنگ بندی کے باوجود حملے جاری رکھے اور تین سو سے زائد شہریوں کو قتل کر دیا اس کی یہ شرارت پاکستان نے کامیاب نہیں ہونے دی اور امریکہ سے ہی اسے شٹ اپ کال دلوا کر اس کے لبنان پر حملے بند کروائے۔ اسی طرح انڈیا تو ویسے ہی پاکستان کا ازلی دشمن ہے ہی وہ اپنی شرارتوں سے کبھی باز آیا ہی نہیں۔ یہاں مجھے دیگر دو ممالک کا ذکر کرتے ہوئے  انتہائی دکھ ہو رہا ہے یہ ممالک نہ صرف مسلم ممالک ہیں بلکہ پاکستان اور پاکستانیوں کے ان پر بے شمار احسانات ہیں لیکن یہ ممالک بھی دشمن کی سازشوں کا حصہ بن کر دشمن کا ہی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ دو ممالک افغانستان اور یو اے ای ہیں۔ افغان جنگ میں پاکستان نے نہ صرف چار ملین سے زائد افغانوں کی چار دہائیوں سے زائد عرصہ میزبانی کی بلکہ وہاں گھس بیٹھیوں کے خلاف ان کی مدد بھی کی کسی طالع آزما کو افغانستان پر قبضہ نہیں کرنے دیا۔ اسی طرح یو اے ای کی اکانومی میں پاکستانیوں کا بڑا اہم کردار ہے۔ یو اے ای میں پاکستانی انویسٹرز کی 11 بلین ڈالرز سے زائد کی انویسٹمنٹ ہے۔  یہ الگ بات ہے کہ کالا دھن ہے یا انویسٹمنٹ یہ بحث کسی اور وقت کیلئے رکھ چھوڑتے ہیں۔اور پھر یہ بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ پاکستان نے ان کے ساتھ کیا کیا اچھائیاں کی ہیں مگر یار اس وقت مسئلہ عالم اسلام کی بقا  کا ہے۔ اسلام کا ایک ازلی دشمن مسلم ممالک پر کاری ضرب لگا رہا ہے اور وہ انہیں صفہء ہستی سے مٹانے کی باتیں کر رہا ہے اور یہ ممالک ان کا ہتھیار بننے پر راضی ہیں بلکہ بن چکے ہیں۔ حتیٰ کہ یو اے ای نے تو امن کے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کیلئے باقاعدہ ایران پر حملہ بھی کر دیا تاکہ پھر حالات کشیدہ ہوں اور یہ امن عمل ختم ہو جائے اور یہ جنگ ایران کی مکمل بربادی تک بند نہ ہو۔  یہ تو اللہ تعالیٰ کا شکرہے کہ پاکستان کی قیادت نے اس معاملے کو ایران کے ساتھ اٹھایا اور اسے یو اے ای پر جوابی حملے سے باز رکھا اور ایرانی قیادت نے بھی اس سازش کاادراک کیا اور پاکستان کی درخواست پر تیاری کے باوجود حملہ نہیں کیا۔

 

عالمی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اسرائیل، انڈیا ، افغانستان اور یو اے ای نہیں چاہتے کہ یہ امن مذاکرات کامیاب نہ ہوں ۔ وہ کوئی بھی شرارت کر سکتے ہیں۔ اس لئے پاکستان نے سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے ہوئے ہیں۔ ایران کے مذاکراتی نمائندوں کی حفاظت کیلئے  تہران سے اسلام آباد تک پوری تہہ در تہہ سیکورٹی انتظامات کئے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی تینوں مسلح افواج ریڈ الرٹ پر ہیں۔ زمینی اور فضائی نگرانی کو سخت کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے فضائی محافظ ایران بلکہ خلیجی ریاستوں تک متحرک ہیں ۔ وہ ایرانی وفد کو اپنے حفاظتی حصار میں تہران سے اسلام آباد تک لے کر آئے ۔ مشرقی اور مغربی سرحد پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اور کسی بھی شرارت کی صورت میں گھروں میں گھس کر مارنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ مگر دشمن تو دشمن ہے وہ کوئی بھی شرانگیزی کر سکتا ہے مگر انشاءاللہ یہ اس کی کوشش ہوگی مگر پاکستان کا جواب اسے کسی اور کوشش کرنے کے قابل نہیں چھوڑے گا۔

 

آخر میں پہلے جیسا ہی پیغام کہ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے پاکستان کی کامیابیوں پر منہ بسورنے کی بجائے خوش ہوں اور مزید کامیابیوں کیلئے دعا گو ہوں۔  ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی یا مذہبی گروہ فرقے یا جماعت سے تعلق ہو سکتا ہے ۔ ہم اپنے اپنے خیالات اور نظریات کے حامل ہو سکتے ہیں مگر ہم اول و آخر ایک پاکستانی ہیں ۔ آپ کا کسی شخصیت کے ساتھ کوئی اختلاف ہو سکتا ہے مگر آپ کا پاکستان کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

 

پاکستان زندہ باد

 

یہ بھی پڑھیں:

اشرافیہ  کی قربانی اور وزیراعظم کی بے بسی

سنو آئے وقت کے یزیدو، بتاؤ کہاں ہے تمہارا یزید


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے