اشرافیہ کی قربانی اور وزیراعظم کی بے بسی۔۔۔ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

اشرافیہ  کی قربانی اور وزیراعظم کی بے بسی

اشرافیہ  کی قربانی اور وزیراعظم کی بے بسی

تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

 

غریب شہر کے چند نوالوں پر بھی شب خون مار دیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا گیا۔ حالانکہ عوام تو سوچ رہی تھی کہ وزیراعظم پاکستان اس بار اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو بھوکوں مرنے سے بچا لیں گے۔ مگر وہ نہ تو اپنے کپڑے بیچنے پر تیار ہوئے اور نہ ہی اپنے جیسی اشرافیہ سے جائز ٹیکس ہی وصول کر پائے۔ بلکہ وہ تو اشرافیہ سے قربانی دینے کی اپیل ہی کرتے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کو چاہئے کہ وہ قربانی دے تاکہ ملک کو اس بحران سے نکالنے میں مدد مل سکے۔  میاں صاحب یہ بات تو طے ہے کہ پاکستانی اشرافیہ تو کسی صورت قربانی نہیں دے گی۔ کیونکہ انہیں غریبوں کاحق کھانے اور ان کا خون نچوڑنے کی لت پڑ چکی ہے۔ یہ عادت چھوٹتے چھوٹتے ہی چھوٹے گی۔

 

پہلے تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آخر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ کیوں کرنا پڑا؟  اس کا اگر میں سیدھا اور سادا سا جواب دوں تو وہ ہے حکومتی عہدیداروں اور خاص طور پر انتظامی عہدیداروں کی لوٹ مار اور بد انتظامی۔ پاکستان سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے۔ اسے پچھلے ستر سال سے نوچا جا رہا ہے ۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مرغی ہر بار بڑا انڈا دے دیتی ہے  تاکہ اس کے ثمرات عام عوام تک بھی پہنچیں مگر شومئی قسمت کھانے والے ہر بار کچھ مزید بڑھ جاتے ہیں۔ بیوروکریسی پر نظر ڈالیں تو ایک ایسا افسر جو اپنی تعلیمی فیسیں کہیں سے جگاڑ کر کے پورا کرتے تھے وہی افسر چند ہی دنوں میں بڑی بڑی جائیدادوں کے مالک بن جاتے ہیں۔ بہت سے افسران کی جائیدادیں تو سرحدیں بھی پار کر جاتی ہیں۔ کبھی سوچا ہے کہ یہ سب کہاں سے آتا ہے؟۔ حالانکہ  اگر تنخواہوں اور اخراجات کا موازنہ کیا جائے تو یقیناََ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہر ماہ مزید مقروض ہو جاتے ہوں گے۔ مگر یہ شان و شوکت اور ترقی سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ وہ شاید گریڈ سترہ کے ملازم نہیں بلکہ پاکستان کے مالک بن چکے ہیں۔

 

اسی طرح اگر سیاسی نمائندگان کی شان و شوکت اور کروفر کا جائزہ لیا جائے تو عوام کے خادم بن کر آنے والے ہمارے حکمران بھی دنوں میں اپنا حدود اربعہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ انتخابات کے دنوں میں جن کا دعویٰ ہوتا ہے کہ سائیکل پر پارلیمنٹ اور دفتر آیا جایا کریں گے انتخاب کے دوسرے ہی دن لینڈ کروزرز اور پچاروز کا پورا سٹاک ان کے آگے پیچھے حرکت میں ہوتا ہے۔ منتخب ہونے سے پہلے جو چند ہزار کی آمدن کا بزنس یا جاب کر رہے ہوتے ہیں اور چند گز کے گھر میں رہائش پذیر ہوتے ہیں وہ ایک دم سے چند ہی  دنوں میں ایکڑوں کی کوٹھیوں ، بنگلوں اور فارم ہاؤسز کے مالک بن جاتے ہیں۔ کبھی سوچا ہے کہ یہ سب کہاں سے آتا ہے؟  بتانا ضروری نہیں کیونکہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے یہ سب قومی خزانے کی لوٹ مار اور عام سائل کی جیبیں کاٹنے سے آتا ہے۔  یہی ہیں وہ چند وجوہات جو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اس سے پہلے بجلی کے بلوں کی مد میں ہونے والی لوٹ مار کا سبب بنی ہیں۔ آئی پی پی ز سے غیرمنصفانہ معاہدوں کے ذمہ داروں کو پکڑ کر کیفرکردار تک پہنچایا جاتا تو آج نہ صرف ملک خوشحال ہوتا بلکہ ترقی کی کئی منازل طے کر چکا ہوتا۔

 

اب آتے ہیں کہ وزیراعظم نے اشرافیہ سے قربانی کی اپیل کیوں کی؟ بھائی اس کا سادا سا جواب دیا جائے تو اشرافیہ سے اپیل ہی کی جا سکتی ہے ، کیونکہ وہ کوئی چند روپے مہنگی چینی بیچنے والے دکاندار ہیں اور نہ گلی محلے میں کسی سے سو روپیہ یا موبائل چھین کے بھاگنے والے تو  کہ انہیں سی سی ڈی کے حوالے کر کے سیدھا اگلے جہان بھیج دیا جائے یا کسی عضو سے محروم کر دیا جائے۔ میں ان جرائم کا بھی طرفدار نہیں لیکن اس مطالبے کا بڑا حامی ہوں کہ جو جتنا مجرم ہے اسے اتنی ہی سزا دی جائے۔ لیکن پاکستان میں اس کے بالکل برعکس ہے یہاں جتنا بڑا مجرم ہوتا ہے قانون کے سینے میں اس کیلئے اتنا بڑا پیار موجود ہوتا ہے۔  یہ  اشرافیہ بھی بڑے لٹیرے ہوتے ہیں انہوں نے اربوں لوٹ کے اپنی ایمپائر بنائی ہوتی ہے ان سے صرف گذارش ہی بنتی ہے۔ بات وہی پیٹی بھائیوں والی ہے صادق آتی ہے کہ پیٹی بھائی ہے اسے تو سات کیا سارے خون ہی معاف ہوتے ہیں۔

 

پیارے پاکستانیو! آج کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا مگر پھر قلم اس وجہ سے اٹھا لیا کہ شاید میری بات آپ لوگوں کو سمجھ آ جائے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ بھی سمجھنے والے نہیں اس لئے آپ بھی ان حالات کے برابر کے شریک ہیں۔ کتنی بار آپ لوگوں سے کہا ہے کہ اپنے نمائندے اپنے ہی جیسے منتخب کریں ۔ لیکن آپ بھی انہی اشرافیہ کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیج دیتے ہیں اور پھر ان سے امیدیں بھی لگا لیتے ہیں۔ میرا ایک اور مشورہ ہے آپ کو کہ یا تو نمائندے اپنے جیسے چنیں یا ان سے امیدیں لگانا چھوڑ دیں۔

 

یہ بھی پڑھیں:

یہ ایلیٹ کلاس کا پاکستان ہے لہذا سسک سسک کر مرتے رہیں۔۔۔ تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

سمت درست کریں، غریبوں کو نوچنا چھوڑ دیں ...  تحریر: فاروق  شہزاد ملکانی


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے